امام علی رضا علیہ السلام کے ممتاز اصحاب و شاگردان

حوزہ/ امام علی رضا علیہ السلام کے اصحاب و شاگردوں میں متعدد ایسی جلیل القدر شخصیات گزری ہیں جنہوں نے علمِ حدیث کے حصول، حفظِ روایات، فقہ و معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج اور ان تعلیمات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ذیل میں ان میں سے بعض ممتاز اصحاب کا مختصر تذکرہ پیش کیا جا رہا ہے۔

انتخاب و ترجمہ: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

امام علی رضا علیہ السلام کے اصحاب و شاگردوں میں متعدد ایسی جلیل القدر شخصیات گزری ہیں جنہوں نے علمِ حدیث کے حصول، حفظِ روایات، فقہ و معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج اور ان تعلیمات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ذیل میں ان میں سے بعض ممتاز اصحاب کا مختصر تذکرہ پیش کیا جا رہا ہے۔

1. جناب حسن بن علی بن زیاد وشّاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

نجاشی بیان کرتے ہیں کہ جناب حسن بن علی بن زیاد وشّاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، جناب الیاس صیرفی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے پوتے تھے۔ جناب الیاس صیرفی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ جناب حسن بن علی وشّاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی امام علی رضا علیہ السلام کے بہترین اور ممتاز اصحاب میں سے تھے۔

جناب حسن بن علی وشّاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے جدِ بزرگوار جناب الیاس صیرفی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: "اُشْهِدُوا، فَهٰذِهِ السَّاعَةُ لَيْسَتْ سَاعَةَ كَذِبٍ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَقُولُ: وَاللّٰهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، وَيَتَوَلَّى الْأَئِمَّةَ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ."

یعنی؛ گواہ رہو! یہ وہ وقت ہے جب جھوٹ نہیں بولا جاتا۔ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا ہے: خدا کی قسم! جو بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ سے محبت رکھتا ہو اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت کو تسلیم کرتا ہو، اسے جہنم کی آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔"

جناب الیاس صیرفی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اس بات کو دوسری اور تیسری مرتبہ بھی دہرایا، حالاں کہ کسی نے ان سے اس بارے میں کوئی سوال نہیں کیا تھا۔

حدیث سے غیر معمولی شغف

جناب احمد بن محمد قمی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حدیث کے حصول اور علم کی طلب میں کوفہ گیا۔ وہاں میری ملاقات جناب حسن بن علی وشّاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ علاء بن رزین اور ابان بن عثمان کی کتابیں مجھے فراہم کر دیں۔ انہوں نے وہ دونوں کتابیں مجھے دے دیں اور فرمایا: "جلدی نہ کرو؛ جو کچھ تمہیں ان کتابوں سے نقل کرنا ہے، اطمینان سے لکھ لو۔"

پھر انہوں نے فرمایا: "اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہاری طرح حدیث کا اتنا شوق رکھنے والا شخص بھی موجود ہے تو میں اس سے کہیں زیادہ احادیث حفظ کرتا؛ کیونکہ میں نے اسی مسجد میں 900 محدثین کو پایا، جن میں سے ہر ایک کہتا تھا: "حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ"؛ یعنی 'مجھ سے جعفر بن محمد علیہما السلام نے حدیث بیان فرمائی۔'"

یہ واقعہ اس دور کے غیر معمولی علمی و حدیثی ماحول اور ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث کے حصول کے لئے علماء و محدثین کے شوق کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

امام علی رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری

جناب حسن بن علی وشّاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا امام علی رضا علیہ السلام سے علمی تعلق اور احادیث و مسائل کے حصول کا شوق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے مختلف مسائل پر مشتمل ایک تحریر تیار کی، تاکہ امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ان مسائل کے بارے میں دریافت کریں۔

وہ بیان کرتے ہیں: "ایک صبح میں امام علی رضا علیہ السلام کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ امامؑ کے دروازے پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔ اسی دوران میری نظر امامؑ کے ایک خادم پر پڑی، جو لوگوں سے دریافت کر رہا تھا:

'حسن بن علی وشّاء، الیاس کی بیٹی کے بیٹے، بغدادی کہاں ہیں؟'

میں نے کہا: 'اے بندہ خدا! جس شخص کو تم تلاش کر رہے ہو، وہ میں ہی ہوں۔'

انہوں نے مجھے ایک تحریر دی اور کہا: یہ ان مسائل کے جوابات ہیں جو تم اپنے ساتھ لے کر آئے ہو۔

یہ واقعہ جناب حسن بن علی وشّاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی امام علی رضا علیہ السلام سے گہری علمی وابستگی اور امامؑ کے علم و مقام کی ایک نمایاں جھلک پیش کرتا ہے۔(رجال النجاشی؛ معجم رجال الحدیث، ج. 5، ص. 35؛ مناقب آل أبي طالب، ج. 4، ص. 335۔)

2. جناب حسن بن علی بن فضّال رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

جناب حسن بن علی بن فضّال رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ان جلیل القدر اصحاب میں سے تھے جنہوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا زمانہ پایا تھا۔ وہ امام علی رضا علیہ السلام کے راویوں میں شمار ہوتے تھے اور آپؑ سے خصوصی تعلق و وابستگی رکھتے تھے۔

علمائے رجال نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ نہایت جلیل القدر، زاہد، صاحبِ ورع اور ثقہ شخصیت تھے۔

ان کی عبادت و بندگی کا یہ عالم تھا کہ جب وہ صحرا میں تشریف لے جاتے تو عبادت اور طویل سجدوں میں اس قدر محو ہو جاتے کہ صحرا کے پرندے ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ وہ عبادت میں اس حد تک مستغرق ہو جاتے کہ کبھی بے خود ہو کر زمین پر گر پڑتے۔ دور سے دیکھنے والا یہ گمان کرتا کہ زمین پر کوئی کپڑا پڑا ہوا ہے۔

جناب حسن بن علی بن فضّال رضوان اللہ تعالیٰ علیہ علمی اعتبار سے بھی ایک ممتاز شخصیت تھے اور متعدد کتابوں کے مولف تھے۔ ان کی تالیفات میں درج ذیل کتابوں کا ذکر ملتا ہے: کتاب الزیارات، کتاب البشارات، کتاب النوادر، کتاب الردّ علی الغلاة، کتاب الشواہد، کتاب المتعة، کتاب الناسخ والمنسوخ، کتاب الملاحم، کتاب الصلاة اور کتاب الرجال

اس کے علاوہ ایک اور کتاب کا بھی ذکر ملتا ہے، جسے اہلِ قم نے ان کے والد جناب علی بن فضّال سے نقل کیا ہے۔

جناب حسن بن علی بن فضّال رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت میں علم، روایت، زہد، ورع اور عبادت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ وہ امام علی رضا علیہ السلام کے ان ممتاز اصحاب میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علوم و معارفِ اہل بیت علیہم السلام کو محفوظ کرنے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔(معجم رجال الحدیث، ج. 5، ص. 48۔)

3. جناب حسن بن محبوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

جناب حسن بن محبوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے زمانے کے ارکانِ اربعہ میں شمار ہوتے تھے اور اصحابِ اجماع میں سے تھے۔ انہوں نے امام علی رضا علیہ السلام سے متعدد احادیث روایت کیں، علاوہ ازیں امام جعفر صادق علیہ السلام کے تقریباً 60 اصحاب سے بھی احادیث نقل کیں۔

جناب حسن بن محبوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے والد اپنے فرزند کو احادیث کے حصول، سماعت اور کتابت کی ترغیب دیتے تھے۔ وہ ان سے کہا کرتے تھے: "بیٹا! علی بن رئاب سے جو حدیث تم سنو گے اور اسے تحریر کرو گے، میں ہر حدیث کے بدلے تمہیں ایک درہم دوں گا۔"

جناب علی بن رئاب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کوفہ کے بزرگ شیعہ علماء اور ثقہ و معتبر راویوں میں شمار ہوتے تھے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جناب حسن بن محبوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے جدِ بزرگوار کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی مدد سے آزادی نصیب ہوئی تھی۔ آزادی کے بعد وہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں رہے اور آپؑ کے خدمت گزار تھے۔

جناب حسن بن محبوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ علمی و حدیثی اعتبار سے بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ان کی متعدد تصانیف کا ذکر ملتا ہے، جن میں کتاب الحدود والدیات، کتاب الفرائض، کتاب النکاح، کتاب الطلاق اور کتاب النوادر شامل ہیں۔ کتاب النوادر تقریباً 1,000 صفحات پر مشتمل تھی۔ ان کی ایک کتاب تفسیرِ قرآن کے موضوع پر بھی تھی۔

جناب حسن بن محبوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے 224 ہجری میں 65 برس کی عمر میں وفات پائی۔

جناب حسن بن محبوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت علمِ حدیث، روایت، تصنیف اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کے اعتبار سے نہایت نمایاں تھی۔ وہ امام علی رضا علیہ السلام کے ان ممتاز اصحاب میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے احادیثِ اہل بیت علیہم السلام کو محفوظ کرنے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔(منتهی الآمال، ج. 2، ص. 361۔)

جناب زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

جناب زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ قم کے جلیل القدر، ثقہ اور بزرگ اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ انہیں امام علی رضا علیہ السلام کے نزدیک خصوصی منزلت و مقام حاصل تھا اور آپؑ ان پر خاص اعتماد فرماتے تھے۔

شیخ کشّی نے اپنی کتابِ رجال میں نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ جناب زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: "میں اپنے خاندان اور رشتہ داروں سے الگ ہو کر کہیں اور منتقل ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں؛ کیونکہ ان کے درمیان نادان اور کم عقل لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔"

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِكَ يُدْفَعُ عَنْهُمْ بِكَ، كَمَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ بَغْدَادَ بِأَبِي الْحَسَنِ الْكَاظِمِ عَلَيْهِ السَّلَامُ."

یعنی "ایسا نہ کرو؛ کیونکہ تمہاری وجہ سے تمہارے اہلِ خانہ سے بلائیں دور ہوتی ہیں، جس طرح ابوالحسن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی برکت سے اہلِ بغداد سے بلائیں دور ہوتی ہیں۔"

یہ ارشاد جناب زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بلند مقام و مرتبے اور امام علی رضا علیہ السلام کے نزدیک ان کے خصوصی اعتماد و اعتبار کی واضح نشانی ہے۔

دین و دنیا کے امین

امام علی رضا علیہ السلام کے ثقہ صحابی جناب علی بن مسیّب ہمدانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں: میں نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: "میرا گھر آپؑ سے بہت دور ہے اور میں ہر وقت آپؑ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورت میں اپنے دینی احکام و مسائل کس سے دریافت کروں؟"

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "مِنْ زَكَرِيَّا بْنِ آدَمَ الْقُمِّيِّ، الْمَأْمُونِ عَلَى الدِّينِ وَالدُّنْيَا." یعنی "زکریا بن آدم قمی سے دریافت کرو؛ وہ دین و دنیا کے امین ہیں۔"

جناب علی بن مسیّب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں: "جب میں امامؑ کی خدمت سے رخصت ہوا تو زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچا اور جن مسائل کے بارے میں مجھے ضرورت تھی، ان کے متعلق ان سے دریافت کیا۔"

یہ واقعہ زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے علمی مقام اور امام علی رضا علیہ السلام کے نزدیک ان کے قابلِ اعتماد ہونے کو نمایاں کرتا ہے۔

امام علی رضا علیہ السلام کے ہم سفر

جناب زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی عظیم سعادتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ انہیں ایک سال مدینہ سے مکہ تک کے سفر اور مناسکِ حج کے دوران امام علی رضا علیہ السلام کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا۔

شیخ کشّی معتبر سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: "ایک رات طلوعِ فجر تک میں امام علی رضا علیہ السلام کے ساتھ علوم و معارف اور اسرار کے بارے میں گفتگو کرتا رہا۔ پھر امامؑ اٹھے اور نمازِ فجر ادا فرمائی۔"

زکریا بن آدم رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی امام علی رضا علیہ السلام کے ان ممتاز اصحاب کی روشن مثال ہے جنہوں نے علم، تقویٰ، امانت اور خدمتِ دین کے ذریعہ اہل بیت علیہم السلام کے معارف کی حفاظت اور ان کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔(معجم رجال الحدیث، ج. 5، ص. 270۔)

5. جناب محمد بن اسماعیل بن بزیع رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

جناب محمد بن اسماعیل بن بزیع رضوان اللہ تعالیٰ علیہ شیعہ معاشرے کے صالح اور نیک افراد، ثقہ راویوں اور امام علی رضا علیہ السلام کے ممتاز اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی خدمت میں بھی گزارا۔

ان کی متعدد تصانیف کا ذکر ملتا ہے، جن میں دو کتابیں خاص طور پر معروف ہیں: کتاب ثواب الحج اور کتاب الحج

ایک مرتبہ جناب محمد بن اسماعیل بن بزیع رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے امام محمد تقی جواد علیہ السلام سے درخواست کی کہ ان کے کفن کے لئے اپنا پیراہن عطا فرمائیں۔ امامؑ نے اپنا پیراہن ان کے لئے بھیج دیا اور فرمایا: "اس کے بٹن نکال دینا۔"

جناب محمد بن اسماعیل بن بزیع رضوان اللہ تعالیٰ علیہ مکہ اور مدینہ کے درمیان راستے میں ایک مقام پر وفات پا گئے۔

ان کے ایک دوست ان کی قبر پر حاضر ہوئے اور وہاں یہ روایت بیان کی کہ میں نے صاحبِ قبر جناپ محمد بن اسماعیل بن بزیع رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے سنا تھا کہ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "مَنْ زَارَ قَبْرَ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ، فَجَلَسَ عِنْدَ قَبْرِهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْقَبْرِ، وَقَرَأَ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ."

"جو شخص اپنے مؤمن بھائی کی قبر کی زیارت کرے، اس کی قبر کے پاس بیٹھے، قبلہ رُخ ہو، اپنا ہاتھ قبر پر رکھے اور سات مرتبہ سورۂ اِنّا اَنْزَلْنَاہُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کی تلاوت کرے، وہ قیامت کے سب سے بڑے خوف سے محفوظ رہے گا۔"

حسین بن خالد صیرفی بیان کرتے ہیں: ہم کچھ افراد امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے۔ اسی دوران جناب محمد بن اسماعیل بن بزیع رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا ذکر آیا۔ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "وَدِدْتُ أَنَّ فِيكُمْ مِثْلَهُ." یعنی "میری خواہش ہے کہ تم لوگوں میں بھی ان جیسا ایک شخص موجود ہو۔"

امام علی رضا علیہ السلام کا یہ ارشاد جناب محمد بن اسماعیل بن بزیع رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ایمان، تقویٰ، اخلاص، علم اور بلند مقام کی گواہی دیتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ وہ امامؑ کے نزدیک خصوصی اعتماد اور احترام کے حامل تھے۔(معجم رجال الحدیث، ج. 15، ص. 95۔)

6. جناب ریّان بن صلت رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

نجاشی نے اپنی کتابِ رجال میں لکھا ہے کہ ریّان بن صلت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت کرنے والے راویوں میں سے تھے۔ وہ ثقہ اور صدوق تھے۔ انہوں نے ایک کتاب بھی تصنیف کی تھی جس میں امام علی رضا علیہ السلام کے ان ارشادات کو جمع کیا گیا تھا جن میں آل اور امت کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے۔

معمر بن خلّاد بیان کرتے ہیں: فضل بن سہل نے مجھے خراسان جانے کی ذمہ داری سونپی۔ اسی دوران ریّان بن صلت رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے کہا: "میری خواہش ہے کہ جب تم خراسان پہنچو تو امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں میرا سلام پہنچانا اور آپؑ سے درخواست کرنا کہ اپنے پیراہنوں میں سے ایک پیراہن مجھے عطا فرمائیں، نیز اپنے نام سے ضرب دیے گئے کچھ درہم بھی مجھے عنایت فرمائیں۔"

معمر کہتے ہیں: جب میں امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس سے پہلے کہ میں اپنی بات عرض کرتا، امامؑ نے خود فرمایا: "أَيْنَ رَيَّانُ؟ أَيُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْنَا، فَأَكْسُوَهُ مِنْ ثِيَابِي، وَأُعْطِيَهُ مِنْ دَرَاهِمِي؟"

"ریّان کہاں ہیں؟ کیا وہ ہمارے پاس آنا چاہتے ہیں تاکہ میں انہیں اپنے لباس میں سے ایک پیراہن پہناؤں اور اپنے دراہم میں سے انہیں کچھ عطا کروں؟"

معمر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: "سبحان اللہ! خدا کی قسم! میں نے ابھی اپنا سوال بھی آپؑ کی خدمت میں پیش نہیں کیا تھا۔"

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "اے معمر! مؤمن کو توفیق حاصل ہوتی ہے۔ جاؤ اور ریّان سے کہو کہ ہمارے پاس آئے۔"

چنانچہ جناب ریّان رضوان اللہ تعالیٰ علیہ امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور امامؑ سے ایک پیراہن حاصل کیا۔ جب وہ امامؑ کے گھر سے باہر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا: "تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟"

انہوں نے جواب دیا: "30 درہم۔"

ریّان بن صلت رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ واقعہ امام علی رضا علیہ السلام کے نزدیک ان کے خصوصی مقام و مرتبہ اور آپؑ کی اپنے مخلص اصحاب پر عنایت و توجہ کو نمایاں کرتا ہے۔(معجم رجال الحدیث، ج. 7، ص. 209۔)

غِناء کے بارے میں امام علی رضا علیہ السلام کا مؤقف

جناب ریّان بن صلت رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں: میں نے امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: "ہشام بن ابراہیم عباسی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ آپؑ نے غِناء سننے کی اجازت دی ہے۔"

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "وہ زندیق جھوٹ بولتا ہے۔ اس نے مجھ سے غِناء سننے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی یہی سوال کیا تھا۔"

امام محمد باقر علیہ السلام نے اس سے فرمایا: "اگر اللہ تبارک و تعالیٰ حق اور باطل کو ایک جگہ جمع فرما دے تو غِناء ان دونوں میں سے کس کے ساتھ ہوگا؟"

اس شخص نے جواب دیا: "باطل کے ساتھ۔"

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "یہی تمہارے لئے جواب ہے؛ تم نے خود اپنے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔"

اس کے بعد امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: "میرا حکم بھی یہی ہے۔"(بحار الأنوار، ج. 49، ص. 263)

7. جناب نصر بن قاموس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

شیخ مفید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے جناب نصر بن قاموس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو امام علی رضا علیہ السلام کے خاص اصحاب اور ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ وہ انہیں اہلِ علم، صاحبِ ورع اور فقہائے شیعہ میں سے قرار دیتے ہیں۔

جناب نصر بن قاموس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بیان کرتے ہیں: میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے گھر میں موجود تھا۔ امامؑ نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے اپنے گھر کے ایک کمرے کے دروازے تک لے گئے۔ پھر آپؑ نے دروازہ کھولا۔ اندر دیکھا تو آپؑ کے فرزند علیؑ ایک کتاب ہاتھ میں لئے اس کا مطالعہ کر رہے تھے۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم انہیں پہچانتے ہو؟"

میں نے عرض کیا: "جی ہاں، یہ آپؑ کے فرزند ہیں۔"

امامؑ نے فرمایا: "اے نصر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی کتاب ہے جس کا وہ مطالعہ کر رہے ہیں؟"

میں نے عرض کیا: "نہیں۔"

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا: "یہ جَفْر ہے؛ اسے نبی یا نبی کے وصی کے سوا کوئی نہیں دیکھتا۔"

یہ روایت امام علی رضا علیہ السلام کے علمی و روحانی مقام اور ان سے وابستہ مخصوص علوم و معارف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ (منتهی الآمال، ج. 2، ص. 366۔)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha